Online Matrimonial Form

Wednesday, August 6, 2014

Introduction and Procedure تعارف اور طریقہ کار


السلام علیکم،                                                                                                                                                  
   آج کل والدین اپنے بچوں کے رشتوں کے سلسلے میں کافی پریشان ہیں- میرے پاس پاکستانی اور انڈین فیملیز سے کافی سارے پرپوزل ہیں- جو کہ آپ کے بیٹے، بیٹی یا خود آپ کے لیے مناسب ہو سکتے ہیں-  جیسے کہ ڈاکٹر، انجینر، سی اے، بی ڈی ایس، ڈی فارم، آئی ٹی اور ایم بی اے وغیرہ-آپ میرے پاس آن لائن رجسٹرڈ ہوں اور پھر آپ کو پرپوزل لسٹیں ہر ماہ ملیں  گیں-

Assalam o Elekom/ Good Day,
In these days Parents are facing to much problems regarding marriages of their children. I have lot of
educated proposals from Pakistani and Indians families like Doctors, Engineers, CA, B.D.S, MBA, IT and Pharmacist etc for You or your Daughters, Sons, from Saudi Arabia, Pakistan, India, and other
world. Be registered via   Online Matrimonial Form and get Proposals Lists every Month.

Please remember me when ever you will get your match via my services.


Click here for Grooms Proposals List


1) Free Membership

After registration, you will get Proposals Lists up to 3 Months. But only other Paid Members can contact you and you can contact to paid members free.

2) Paid Membership
After paying your profile will be Highlighted and put on top with Email ID and Phone Number (if like). So all other Members can contact you directly.And you will get 5 members contact details after receiving the Proposals lists up to 6 Months. For this you will pay 200 SAR (5000 PRs in Pakistan) for 6 months via Banks or Saudi Mobile Recharge Cards.

My Banks Accounts Detail.

Please Join Facebook Group Make Marriage Easy, نکاح آسان تحریک


My Request to the Parents/ Big Brothers/  Guardians of 30+ Girls, Divorced, Khula Yaftah and Widows is that, You will/may also think to marry your beloved with already married man as 2nd wife. For this please ask Her once, instead of waiting for a Perfect Single Rich Man and get too old and Frustrated your Beloved Daughters or Sisters.

Note: This Service is only for decent Peoples and  not for those Hunters of evil (Therki), who are in search of Missiyar, Contract, Limited, Muttah Marriages, Friendship, Long or Short term Relations.

Arif Bazmi
Mobile No.:  +966 59 3967457 

From 16:00 to 22:00 SST
Email : arifbazmi@yahoo.com
Skype: arifbazmi 


Contact Me
foxyform

Tuesday, December 31, 2013

How Can Find a Best Match? اچھا رشتہ کیئسے تلاش کریں؟

Do You Want Doctor Daughter in Law? کیا آپ کو ڈاکٹر بہو چاہیئے؟


video

پسند کی شادی 
’’لو میرج نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ہم نہ مشرقی روایات کی پاسداری کررہے ہیں اور نہ مغربی معاشرے کی تقلید۔ معاشرہ کھچڑی بن چکا ہے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کا انجام لڑائی ،مارکٹائی اور پھر طلاق ہوتاہے۔‘‘یہ وہ آبزرویشن ہے جولاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے دی ہے۔ انہوں نے وہ حقائق بیان کیے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ واقعات یہ ہیں کہ اگر اس حوالے سے سروے کیا جائے تو پتا چلے گا کہ جو شادیاں بزرگوں کی مرضی سے ہوتی ہیں، ان کے نتائج جو لو میرج کے حوالے سے جسٹس صاحب نے بیان کیے ہیں ان میں کوئی نسبت و تناسب ہی نہیں۔ انہوں نے مشرقی روایات کی جو بات کی ہے اس کی جگہ وہ اسلامی تعلیمات کی اصطلاح استعمال کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ اگر بزرگوں کی مرضی سے ہونے والی شادیوں کے حوالے سے جو اس قسم کے نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جن کی تعداد بدقسمتی سے دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے وہ اس لیے ہے کہ مشرقی روایات میں ہندوانہ معاشرے کے اثرات ہمارے ہاں در آئے ہیں۔ ان کا تذکرہ ان شاء اللہ آگے آئے گا۔ دراصل دونوں قسم کی شادیوں میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہ نکاح کے حوالے سے ہماری ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔ آیے ذرا اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
نکاح کے حوالے سے جو ہمیں پہلی تعلیم ملتی ہے وہ یہ ہے کہ بچوں کے بالغ ہوجانے کی صورت میں ان کی فوری شادی کی فکر کرنا ہے۔ اس تاکید کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ اگر نکاح میں تاخیرکی بناء پر خدانخواستہ اولاد بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرایا گیا ہے،۔الحمد للہ ،  دین کے اس حکم پر بالعموم عمل کیا جاتا ہے لیکن اس کا کیا کیجیے کہ ہمارا خاندانی نظام جو اللہ کے فضل و کرم سے اب تک بچا ہوا ہے اس میں دراڑیں ڈالنے کے لیے مغرب کوشاں ہے۔ہم نے مغرب کے سیاسی اور معاشی نظام کو تو تقریباً اپنا ہی لیا ہے ۔مغربی جمہوریت ہمارے سیاستدانوں کے لیے جن میں صاحبان جبہ و دستاربھی شامل ہیں،نیلم پری بنی ہوئی ہے بقول علامہ اقبال کے
کیا امامان سیاست کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنادیتی ہے اس کی ایک ھو
اسی طرح ہمارا معاشی نظام بھی مغرب کی تقلید میں سود پراستوار کیا جاچکا ہے۔ اب ہمارے معاشرتی نظام پر بھی مغرب اثر انداز ہونے کی پوری کوشش میں مصروف ہے۔ یہ اسی کا مظہر ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرینز ایسی قانون سازی کے لیے پر تول رہے ہیں جس کے ذریعے ایک خاص عمر تک شادی پر پابندی ہوگی۔
پسند کی شادی اس دینی  تعلیم سے انحراف کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں رسول اللہ کے ارشاد گرامی کے مطابق ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔(مسند احمد،ابودائو،ترمذی، ابن ماجہ)۔اس حدیث کی تشریح میں مولانا منٓظر حسن گیلانی  ؒ نے معارف الحدیث میں فرمایا ہے ’’کہ حدیث کا مقصد و مدعا بظاہر یہ ہے کہ نکاح ولی ہی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ عورت کے لیے ٹھیک نہیں کہ وہ خود اپنا نکا ح کرے۔ یہ اس کے شرف اور مقام حیا کے بھی خلاف ہے اور اس سے خرابیاں پیدا ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ ‘‘ہاں ایک اورحدیث مبارکہ کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ اپنے بارے میں اصل اختیار عورت ہی کا ہے۔ولی اس کی مرضی اور رائے کے خلاف اس کانکاح نہیں کرسکتا۔ رسول اللہ کے فرمان کے مطابق شوہر دیدہ عورت کا اپنے نفس کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق اوراختیار ہے اور باکرہ (کنواری) کے باپ کو بھی چاہیے کہ اس کے نکاح کے بارے میں اس کی اجازت حاصل کرلے اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔(صحیح مسلم)
نکاح کو آسان بنانے کے ضمن میں صرف مندرجہ ذیل باتوں کی ہمارے دین نے تعلیم دی ہے۔:
۱)دین مہر: سوره نساء آیت ۱ میں فرمایا گیا:’’اپنی بیویوں کے مہر خوشدلی سے ادا کیا کرو۔‘‘ مہر کی ادائیگی کے بارے میں تاکید کا اندازہ حضور کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق جس شخص نے کسی عورت سے کم یا زیادہ مہرپر نکاح کیا اور اس کے دل میں اس حق مہر کی ادائیگی کا ارادہ نہیں ہے تو قیامت میں اللہ کے حضور زناکار کی حیثیت سے پیش ہوگا۔ (طبرانی) اس حدیث مبارکہ سے یہ واضح ہے کہ دین مہر کی کوئی مخصوص رقم مقرر نہیں کی گئی ہے۔
۲) نکاح :جو گواہان کی موجودگی میں منعقد ہو۔ اس میں بھی آسانی کے لیے مسجد میں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔
۳) دعوت ولیمہ: اآیے دیکھیں کہ حضور نے دعوت ولیمہ میں کیا کیا پیش کیا:’’حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے اپنی کسی بیوی کے نکاح پر ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسا کہ حضرت زینت بنت جحشؓ کے نکاح کے موقع پر کیا ۔پوری ایک بکری پر ولیمہ کیا۔‘(متفق علیہ)‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور سب بیویوں سے نکاح پر آپؐ نے جو ولیمہ کی دعوت کی تھی وہ اس سے مختصر اورہلکے پیمانے پر کی تھی۔چنانچہ صحیح بخاری میں  صفیہ بنت شیبہ ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے بعض بیویوں کے نکاح پر جو ولیمہ کی دعوت کی تو صرف دو سیر جو کام آئے اور حضرت انسؓ سے یہ بیان مروی ہے کہ رسول اللہ نے جب حضرت صفیہ ؓ کو نکاح میں لیا تو دعوت ولیمہ کے موقع پر دسترخوان پر گوشت روٹی کچھ نہیں تھا۔ کچھ کھجوریں تھیں اور کچھ پنیر اور مکھن تھا ۔اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے لیے باقاعدہ کھانے کی دعوت بھی ضروری نہیں ۔کھانے پینے کی جو بھی مناسب اور مرغوب چیز میسر ہو ،رکھ دی جائے۔ لیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہیز کی طرح ولیمہ کو بھی ایک مصیبت بنالیا ہے جبکہ جہیز کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تذکرہ ہی نہیں۔ حضرت فاطمہؓ  کے نکاح پر جو سامان حضور نے انہیںفراہم کیا تھا وہ حضرت علیؓ کے وکیل کے طور پر اور انہی کی فراہم کردہ رقم کے ذریعے خرید کیے گئے تھے جو ان کی زرہ کے فروخت کے عوض ملی تھی۔ اگر اسے جہیز کانام دیا جائے تو سوال یہ ہے کہ حضور کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے مواقع پر کوئی جہیز کی روایت کیوں دستیاب نہیں۔اسی طرح ہم نے بارات کی رسم ایجاد کرلی اور اس موقع پر لڑکی والوں کی جانب سے کھانے کی دعوت کولازم کرلیا۔اس کے علاوہ ہم نے شادی کے موقع پر رسومات کا ایک طومار باندھ لیاہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی شادی ایک بڑا مسئلہ بن کر رہ گئی ہے۔
اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔ ہمارے دین نے کسب معاش کی ذمہ داری مرد پر رکھی تھی۔اب یہ ذمہ داری بھی لوگوں نے بڑی ہوشیاری سے خواتین کو منتقل کردی ہے۔ وجہ حب دنیا کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ دنیوی ترقی اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی خاطر جب خواتین کو گھر سے باہر نکالا گیا تو جو اس کی اصل ذمہ داری تھی وہ پس منظر میں چلی گئی۔ اس کے جو ثمرات بد پیدا ہوئے اس پر تو کوئی گفتگو کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ دنیوی زندگی کی چکا چو ند نے ان کی بینائی اس لائق رہنے ہی نہیں دی جو وہ اس جانب نظر ڈالیں۔چلیے اگر آپ دنیوی ترقی میں پیچھے نہیں رہنا چاہتے تو کم از کم خواتین کے لیے باہر ایسے مواقع پیدا کریں کہ وہ شرعی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے کسب معاش کرسکیں۔ دفاتر میں انہیں مخصوص ماحول فراہم کریں کہ انہیںاپنے فرض کی ادائیگی کے لیے مردوں سے رابطہ کی ضرورت نہ رہے۔ عورتوں اور مردوں کی مخلوط معاشرت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس کے برعکس ہم نے اپنے دفاتر میں، تعلیم گاہوں میں حتیٰ کہ سماجی تقریبات میں عورتوں اور مردوں کو اکٹھا کردیا ہے۔ ایسے میں ان کے لیے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ ستر و حجاب کی پابندی کرسکیں۔ایک طرف لڑکیوں کی شادی کی مشکلات اور دوسری جانب عورتوں اور مردوں کے اختلاط کے نتائج ہی تو ہیں جو لڑکیوں کو گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی پر اکساتی ہیں۔اس کے نتیجے میں ایک طر ف وہ اپنے گھر والوں سے کٹ جاتی ہیں تو دوسری طرف اس کے سسرال والے اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ نوبت بقول جسٹس صاحب کے لڑائی ،مارکٹائی اور طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
اس صورتحال سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بچوں کی بروقت شادیوں کا اہتمام کریں ۔ گو کہ موجود ہ معاشرے میں ایسا ہونا امر محال نظر آتا ہے تاہم عزیمت کی راہ اختیار کی جائے تو یہ ناممکن بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ آپ برادری سے کٹ جائیں گے۔دین سے جڑے رہنے کی قیمت برادری کے بائیکاٹ کی صورت میں بہت ہی کم ہے جو ہمیں ادا کرنی پڑے گی۔ اگر به امر مجبوری آپ کے لیے دنیا سے کٹنا محال ہو تو حکومتی سطح پر اس کی کوشش کی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں خواتین اپنے گھر وں میں رہ کر کاٹیج انڈسٹری چلاسکیں۔ مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ ہسپتال قائم کیے جاسکتے ہیں۔ عورتوں کے لیے عورتیں نرس ہوں اور مردوں کے لیے مرد نرس ہوں۔ پرائمری سطح تک کی تعلیم گاہیں عورتوں کے سپرد کردی جائیں۔ مخلوط تعلیم کا خاتمہ کرکے مردوں اور عورتوں کے لیے الگ درسگا ہیں قائم کی جائیں۔ اس کے علاوہ بھی عورتوں  کے  لیے روزی کے ایسے ذرائع پیدا کیے جاسکتے ہیں جہاں ان کا مردوں سے رابطہ ضروری نہ ہو۔ اگر نیت اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہو تو حکومت کے لیے یہ کچھ کرنا پڑے گا۔ اگر ہم ایسا کچھ نہیں کرسکتے تو عدالتوں میں ازدواجی مسائل پر مقدمات آتے رہیں گے اور ہمارے جج حضرات ایسے ہی آبزرویشنز دیتے رہیںگے۔
محمد سمیع

Sunday, August 11, 2013

An Eye Opening Email to Me for Parents

As-Salam-Alaikum

PLEASE MUST READ,  PLEASE MUST READ,  PLEASE MUST READ,

i wish to take pak and ind families attention towards this sensitive matter.
in these days we hv been badly failed to find good proposals.

why????????

there are many reasons for it. i will high light only few reasons.

1......every one needs well educated and well settled(rich) as well young groom for their daughter even she belongs to poor family.

every one wants to make their daughter QUEEN.

other very bad thing groom should be less than 25 and well settle that is impossible practically.

we are not watching religious groom.we need modern boy even he is rude.

2......we are badly effected by media.we are seeking heros out of screne in real life.

3...... we are living in the life of ideas not in real life.we dont like real life.

4.......we need only luxury life.we are not ready for any problem.

5...... we are not following religion.our standard is our culture our wishes and dreams not our religion.

6.......we hv no religious knowledge we follow our olds customs.

7.......we are not asking our girls their likes,dislikes.for girl groom should be according to the choice of mother and father or brother even she does not like him.

8......we are not watching our daughters age even she is 28 we need rich person.if we justify girls marriage age is less 22.

9......we are not ready to accept second marriage groom.girls are coming overage even more than 30 but we need first marriage boy.wht is result?
girls are coming overaged even crossing limits...............

10......we are not ready to keep our daughter in joint family.but we want to live with our son after his marraige as he is our support.why others son is not support for his parents????

11......girl will not go ind or pak with groom if groom job is finished.she has not lived in ind or pak before.if u cant send her with her husband why are u marrying her??
keep her with you.even girls wants to live with husband,s parents but girl parents are not ready for it.

12......we are not ready for simple marriage.bcz simple marriage is our insult wht will people say??? we are poor?
we will give big jahaiz dory even our daughter age is crossing 30 jahaz is must.our daughter is not sheep or goat that we will send her empty hand.

13.......on other hand we need bride less 24 and big jahaiz.if no jahaiz no marriage.

as a result our daughters are mostly overaged.zina is spreading rapidly.mostly girls hv privatly boy friend.bcz its their body requirement no one stop this one.

conslusion <<<<<<<<< we should do marraige according to religion not according to culture.we should believe in allah.we cant buy happiness by money.we cant get happiness by using our thoughts..believe in allah then use ur experience with in limits>>>>>>>>>>>

regards.
jahangir76@yahoo.com

Note: If some one want to write about Grooms demands or in Urdu " Lerke walon ke Nakhre" he/she will welcome. And I will post his/her views here on my blog/website.  

قرآن پر عمل __ ایک منفرد تجربہ

 انسان جب مخالف سمت میں محوِ سفر ہو تو اُس کو تھکاوٹ کے سوا کیا حاصل ہوسکتا ہے۔ نہ وہ منزل کو پاسکتا ہے اور نہ منزل اُس سے قریب ہوسکتی ہے۔ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ قرآنِ مجید کا نسخۂ ہدایت ہمارے گھروں کی زینت ہے۔ لائبریریوں میں موجود ہے، گاڑیوں میں رکھا ہوتا ہے، غرض یہ کہ قرآن ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ ہم جدید و قدیم ہر ذریعے سے اس کو سن اور تلاوت کرسکتے ہیں۔ ہم میں سے کثیرتعداد اس کی تعلیم اس لیے حاصل کرتی ہے کہ وہ اس کو ناظرہ پڑھ سکیں، زبانی یاد کرسکیں۔ ہم اس قرآن کو نمازوں میں سنتے اور پڑھتے ہیں۔ خود بھی سال بھر بلکہ ساری زندگی اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ضروری ہے، بہت قابلِ رشک ہے___ مگر سوال یہ ہے کہ ہم یہ سب کچھ کیوں کرتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ قرآن کو ہم اپنے لیے وہ دستورِ حیات سمجھتے ہیں جو ہمارے خالق و مالک نے ہمارے لیے نازل کیا ہے اور اس کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کا حکم دیا ہے؟ کیا ہم واقعی دنیا اور اس کے بچھے ہوئے جال سے بچ کر خوشنودیِ رب اور سعادتِ دارین کی خاطر ایسا کرتے ہیں؟ 
قابلِ تعریف بات تو یہی ہے کہ ایسا ہی ہو مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جگہ جگہ درسِ قرآن کی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ لوگ ایسی آیات کے دروس سننے کے لیے ذوق و شوق سے آتے ہیں جو آیات محبتِ الٰہی پر اُبھارتی ہوں، ان میں سامعین کی دل چسپی بہت گہری ہوتی ہے۔لیکن جونہی آپ اُن سے کسی ایسی آیت پر گفتگو کریں جو انسانی عادات اور معاشرتی رویوں کے خلاف ہو ، تو لوگوں کے ذہن ایسی باتوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بیش تر معاشروں میں کسی آیت کے نفاذ کو لوگ اہمیت نہیں دیتے ہیں، حالانکہ یہ معاشرے اسلامی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے اُن کے رسوم و رواج اور عادات و اطوار تو بالکل آیاتِ قرآن سے متصادم نہیں ہونے چاہییں۔ افسوس کے ساتھ مَیں آپ کو ایک ایسے ہی واقعے سے متعارف کروانا چاہتی ہوں، تاکہ ایسے معاشرتی رویوں کی خطرناکی واضح ہوسکے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی مگر وہ ہمارے معاشروں کی اقدار، روایات، رواج اور عُرف و عادت کے طور پر فرض کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔
ایک خاتون اچھے مشاہرے پر ملازم تھی۔ ایک طویل انتظار کے بعد اس کی شادی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کو اولاد کی نعمت سے نوازا۔ وہ اپنے بچوں کے درمیان ایک خوش گوار احساس لیے زندگی بسر کر رہی تھی ___مگرایک روز ایسا ناخوش گوار واقعہ پیش آگیا جو اکثر گھروں میں پیش آتا ہے، یعنی شوہر کے ساتھ ناچاقی کا حادثہ۔ خاتون کے خیال میں اُس کا شوہر بعض اہم گھریلو ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھا۔ اُس نے بہت سے وعدے کیے مگر کوئی ایفا نہ ہوا۔ پھر خاتون نے بھی وہی کیا جو عمومی طور پر آج کی عورتیں کرتی ہیں۔ اُس نے شوہر کا گھر چھوڑا اور میکے میں جاکر رہنا شروع کر دیا۔ جاتے ہوئے یہ تک کہہ گئی کہ تم وعدہ پورا کرو گے تو مجھے واپس لاسکو گے۔
پھر دنوں پر دن گزرتے رہے، شوہر تنہا رہا، البتہ شیطان اُس کا ساتھی تھا۔ شیطان اس واقعے کو اُس کے لیے بہت اہم بناکر اُسے غیرت دلاتا رہا، اُس کو عدم مردانگی کا طعنہ دیتا رہا کہ وہ بیوی کی بغاوت کو بھی نہیں کچل سکا۔شوہر بیوی سے یہ کہتے ہوئے ملا کہ : ’’گھر آکر اپنی تمام ذاتی اشیا لے جاؤ‘‘۔ شوہر نے اس کے لیے وقت مقر کردیا اور خود اتنا وقت گھر سے باہر رہنے کا کہا۔ آخر میں یہ کہا: ’’آج کے بعد تو اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتی‘‘۔ خاتون شوہر کے ساتھ جس گھر میں رہایش پذیر تھی وہ اس کے شوہر کے والد کی جایداد تھی۔ خاتون نے ایک دفعہ تو سوچا کہ میں اور میرے بچے اس گھر کے سوا کہاں گزارا کریں گے کیونکہ اپنے والدین کے ساتھ تو میں بچوں سمیت رہ نہیں سکوں گی۔ پھر اُس نے اپنی ساس سے ملاقات کی اور اس سے شکایت کرنا چاہی مگر بدقسمتی سے وہ بھی الٹا الزام تراشی کرنے لگی کہ میرے بیٹے نے تو یہ سب کچھ تنگ آکر کیا ہے۔ خاتون کو یقین نہیں آرہا تھا کہ میں جو کچھ سن رہی ہوں یہ حقیقت ہے۔ 
خاتون کے والدین کو اس واقعے کا علم ہوا تو والد غضب ناک ہوکربولا: کیا اس کا شوہر یہ رشتہ لینے اس کے والدین کے گھر نہیں آیا تھا؟ اب ایسے اہم مسئلے میں وہ لڑکی کے والد سے رجوع کیوں نہیں کرسکتا؟ فضا خاصی ناسازگار ہوگئی تھی۔ سب کا خیال تھا کہ جو کچھ ہوا ہے یہ بڑی رُسوائی ہے، اس کا ازالہ اس مرد سے طلاق لے کر ہی ہوسکتا ہے۔ بالآخر طلاق ہوگئی۔
خاتون کے تعلقات ایک تحریکی ساتھی کے ساتھ تھے۔ اُس نے وقت ضائع کیے بغیر اُس سے رابطہ کیا اور آہ و بکا کے بعد ذرا پُرسکون ہوئی تو اپنی داستان سنانے لگی اور اُسے اپنے اور اپنے بچوں کے اُوپر ہونے والے ظلم کی انتہا قرار دیا۔ تحریکی ساتھی نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے اس طرح کی مشکلات کے حل کے لیے ہمیں ایک دستور عطا کیا ہے۔ تم دونوں کا یہ عمل کتاب اللہ اور سنتِ رسولؐ پر پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت میں دیکھ سکیں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ خاتون کے سانس بحال ہوئے، اور وہ ہرلفظ کو بڑے غور اور توجہ سے سننے کی کوشش کررہی تھی۔ تحریکی ساتھی نے کہا: تو نے اپنا گھر کیوں چھوڑا جب تو اپنے شوہر سے ناراض تھی؟ تجھے معلوم نہیں کہ وہ ایک مشکل مرحلے میں ہے، یعنی طلاق دے چکا ہے۔ رجعی طلاق میں عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنا گھر چھوڑ دے۔ یہ اللہ سبحانہٗ کا حکم ہے، فرمایا:
لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ م بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ (الطلاق
۶۵:۱) (زمانۂ عدت میں) نہ تم انھیں اُن کے گھروں سے نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کسی صریح بُرائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اُوپر خود ظلم کرے گا۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب عورت کو پہلی طلاق دی جاتی ہے تو وہ فوراً اپنے میکے چلی جاتی ہے۔ یہ غلط اور حرام ہے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ نہ تم انھیں گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود وہاں سے نکلیں۔ استثنائی صورت ہے تو صرف یہ کہ وہ عورت کسی بے حیائی کا ارتکاب کرے۔ پھر فرمایا:
وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ (الطلاق
۶۵:۱) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اُوپر خود ظلم کرے گا۔
اس کے بعد اس حکم کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا (الطلاق
۶۵:۱) ’’تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے‘‘۔لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ حدود اللہ کا خیال رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کریں۔ شرعی اُمور و احکام کو معاشرتی اور ذاتی روایات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اسلام اس مشکل کے حل کے لیے کیسے راہ نکالتا ہے۔ فرمایا:
وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَاج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا (النساء
۴:۳۵) اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔
یہاں بات صرف شقاق (بگاڑ) کے خدشے کی ہے۔ اگر یہ خدشہ نظر آجائے تو اس سے ڈرنا چاہیے اور اُس وقت دو حَکم (ثالث) ، ایک عورت کی طرف سے اور ایک مرد کی طرف سے مداخلت کریں۔ ان دونوں کا مقصد اصلاح ہو۔ اب میاں بیوی لازماً ایک ہی گھر میں رہیں گے۔ یہ دونوں ثالث اُن کے پاس اصلاح اور صلح و صفائی کی غرض سے جائیں گے جہاں یہ دونوں میاں بیوی مقیم ہوں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا احساس بھی ہوگا کہ وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا۔
یہ اس معاملے کے حل کی قرآنی صورت ہے۔ اب اس صورت حال کو پیدا کرنا مرد و عورت کو الگ الگ رکھ کر ممکن نہیں، نہ ٹیلی فون پر گفتگو کے ذریعے اس نتیجے پر انھیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ لیکن آج کل یہی ہوتا ہے، جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلتا ہے۔چنانچہ تحریکی ساتھی نے اُس سے کہا کہ تو کیوں غضب ناک ہوکر اپنا گھر چھوڑ آئی؟ اُس گھر کو تیرا گھر تو اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے۔ عورت اپنے میکے کی طرف نہیں جاسکتی خواہ اُس کے اور شوہر کے درمیان بگاڑ کا خدشہ ہی ہو، بلکہ وہ اپنے گھر میں جم کر رہے اور اصلاح کی پوری کوشش کرے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ آئے گا، یعنی اُس کی ذاتی کاوش کے بعد اگلا مرحلہ ثالثوں کی کوشش کا ہوگا۔ نہ تم نے یہ کیا ہے اور نہ تمھارے شوہر نے۔ خاتون نے بڑی انکساری سے پوچھا: تو پھر اب اس کا حل کیا ہے؟ تحریکی ساتھی نے جواب دیا: اپنے گھر واپس چلی جاؤ۔ اُس نے کہا: یہ تو مشکل ہے۔ مجھے جو کچھ کہا گیا ہے میرے جانے کے بعد اب وہ کیسے مجھے برداشت کریں گے؟ میں اس صورت حال میں خود اپنی عزت کو کیسے رُسوائی سے دوچار کرسکتی ہوں؟
تحریکی ساتھی نے کہا: سبحان اللہ، کیا تجھے شروع میں ہی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ اسی طرح کی کیفیت میں تو اللہ تعالیٰ کوئی راستہ نکالے گا۔ پھر بات یہ ہے کہ یہی ابلیس کا مسئلہ تھا۔ وہ بھی ہماری طرح جانتا تھا کہ اللہ ایک ہے۔ زمین و آسمان کی حکومت اُس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ یہ سب کچھ جانتا تھا مگر جب اللہ نے اپنی بادشاہت میں زمین پر ایک خلیفہ بنانا چاہا تو یہاں شیطان نے اعتراض کر دیا۔ آج اپنے گردوپیش میں ہم بھی یہی کچھ دیکھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ایک ہے، وہی نگہبان و نگران ہے۔ ہم اسماے حسنیٰ کا ورد کرتے ہیں، اپنے خالق و مالک کے لیے نماز ادا کرتے اور روزہ رکھتے ہیں۔ کبھی صدقہ و خیرات بھی کردیتے ہیں۔ خالق اور معبود کے ساتھ اپنی محبت کا واشگاف اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جونہی اس خالق اور معبود کا کوئی ایسا قانون ہمارے سامنے آتا ہے جو ہماری عادات سے ٹکراتا ہو، ہماری خواہشات کے برعکس ہو، تو اس کے نفاذ کی بات ہمارے اُوپر سکتہ طاری کردیتی ہے۔ جب ہمارا عمل یہ ہے تو پھر ہم معبود کی ربوبیت اور اُلوہیت کے کیونکر قائل ہوسکتے ہیں؟ اُس کے حکم کو سن کر کیوں اس پر عمل کرنا لازمی نہیں سمجھتے؟ مَیں سمجھتی ہوں کہ آپ کے والد نیک آدمی ہیں، آپ اُن سے کہیں کہ وہ آپ کے شوہر کو بلائیں اور اُس کی بات سنیں۔ اگر وہ اُس کے ساتھ گفتگو میں کسی حل پر نہ پہنچ سکیں تو مرد کے خاندان سے کسی ثالث کو بلالیں، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر اس بکھرتے ہوئے خاندان کو یک جا کرنے کی کوئی سبیل نکالیں۔
خاتون کے شوہر کو بلایا گیا تو اُس نے آکر خاتون کے والد سے کہا کہ یہ اب آپ کی بیٹی ہے، یعنی میں اس کو طلاق دے چکا ہوں۔ والد اس کو رسوم و رواج کے مقابلے میں قرآن کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس نے کہا کہ اس حالت میں تمھیں اپنی بیوی کو اپنے گھر میں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ خاتون کے والد نے اللہ کا وہ دستور اُس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جس دستور کی بنیاد پر اُس کی بیٹی اس مرد کی بیوی قرار پائی تھی۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت اُس کے سامنے رکھی۔ نوجوان نے آیت دیکھ لی مگر کہتا رہا کہ ہم تو ایسا نہیں کریں گے۔ مطلقہ لڑکی اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتی ہے، شوہر کے گھر میں نہیں۔ طلاق کے بعد اب وہ کیسے میرے پاس رہ سکتی ہے؟ خاتون کے والد نے مومنانہ وقار کے ساتھ کہا: ایک گھنٹہ قبل مَیں بھی تمھاری طرح ہی سوچ رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے صحیح راہ کی طرف میری رہنمائی کردی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی عمر کا اختتام اس آیت کے نفاذ پر کروں۔ تم یہ خیال نہ کرو کہ یہ فیصلہ میرے لیے کوئی آسان تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اُس کے احکام ہیں جس کی ہم نے تمھارا نکاح کرتے ہوئے اطاعت کی تھی۔
معاملہ شوہر کے ہاتھ میں چلا گیا۔ وہ بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا اور بیوی اُس کے گھر سے اپنی ذاتی اشیا اُٹھا کر واپس لانا چاہتی تھی۔ گویا معاملہ ایسا معمولی تھا کہ کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ لیکن اب مرد اپنے گھروالوں سے کیا کہے۔ اس پر اُس کی والدہ کا ردعمل کیا ہوگا۔ طلاق کے بعد وہ گھر میں کیسے رہ سکے گی؟ نوجوان نے خاتون کے والد سے کچھ مہلت مانگی کہ وہ سوچ بچار کرلے پھر جواب دے گا۔ 
خاتون نے تحریکی ساتھی سے یہ ساری صورت حال بیان کی تو اُس نے خاتون کو اپنے گھر چلے جانے کا مشورہ دیا۔ اس کے شوہر سے بھی کہا کہ وہ بیوی کو گھر لے آئے کیونکہ بہرحال یہی خاتون کا گھر ہے۔ خاتون کے دل میں جنگ برپا تھی کہ وہ کیسے ایک بار پھر سسرال کے ہاں جائے گی؟ اُن کا ردعمل کیا ہوگا؟ تحریکی ساتھی نے اُس کو کثرت کے ساتھ ذکر الٰہی کرنے اور اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پڑھنے کو کہا۔بالآخر خاتون اپنے بچوں کو لے کر اپنے گھر چلی گئی۔ 
پاک ہے وہ ذات جس نے فرما رکھا ہے: لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا (الطلاق
۶۵:۱) ’’تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے‘‘۔ جب بیوی اور شوہر باہر نکلے تو وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات پر گفتگو کر رہے تھے۔ بیوی نے اپنے گھر سے نکل کر شریعت کے خلاف عمل پر معذرت کی۔ اُس نے دراصل اس واقعے سے ایک سبق سیکھا اور قرآنِ کریم کی ایک آیت کے اُوپر عمل اور اس کے حقیقی نفاذ کو ممکن بنایا۔ وہ ہزاروں درسِ قرآن بھی سنتی تو آیات کی ایسی تفہیم اُسے حاصل نہ ہوسکتی جو اَب ہوچکی تھی۔
اُس کے شوہر نے سوچنے کے لیے وقت مانگا، مگر جب بیوی بچے اُس کے پاس چلے گئے تو حالات نے اُس کو عملی کیفیت میں لاکھڑا کیا۔ اُس نے اپنے بچوں کو دیکھا،بیوی پر نگاہ پڑی کہ وہ خود کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، تو برف پگھلی اور میاں بیوی کے درمیان رحمت و مؤدت اُبھری۔ تحریکی ساتھی کے ساتھ آخری گفتگو میں خاتون نے بتایا کہ معاف کیجیے گا میرے پاس وقت نہیں، میرے شوہر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ انھوں نے مجھے شام کے کھانے کی دعوت دی ہے۔ بچے کہاں ہیں؟ اُس نے کہا: اُنھیں اُن کی دادی کے پاس چھوڑ آئے ہیں، ہم اکیلے جارہے ہیں۔ اُس کی آواز فرحت و مسرت سے سرشار تھی۔ تحریکی ساتھی نے فون بند کیا اور وہ کہہ رہی تھی: ’’اے رحمن و رحیم! وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے تیری آیات پر عمل کیا‘‘۔

سمیہ رمضان /مترجم: ارشاد الرحمن

Monday, July 22, 2013

Use Full Speeches and Link about Marriage and 2nd Marriage

    Shadi BaaRaat Jahez Sunnat Ya ... 



How to do Istikhara?


Why Muslim have more than one wives? Dr. Zakir Naik (Urdu) 

Sunday, July 21, 2013

روحانی، معاشرتی اور نفسیاتی مشورے

Assalamo Elekom

If you are facing problems in your daily life, marital life, or social life. And you want to ask the

solution in the light of Qur'an o Sunnah and Modern Sciences. Then call me. Issue can be like blow

01) Family problems
02) Marriage problems of your beloved
03) Wazaif for Girls marriages
04) Fear from Marriage
05) Marital Counseling
06) Shoher Ezzat Nahi Kertay (U)
07) Domistic Violence
08) Disobeying form your children
09) Saas Baho ke jhagray (U)
10) Jado, asrat ya Nazar e Bad (U)
11) Bandash e Aulad (U)
12) Aulad e Narina (U)
13) Career Counseling
14) Job, Business Problems
15) Be Khabi (U)
16) Depression or unknown fear
17) Conflicting Personality and Disorder
18) Istikharah (U)
19) Wazaif (U)
20) Good Advice (Mashwarah)
 

I will try my best to give you good solution insha Allah. If you want to ask about Istikhrah

Arif Bazmi

Mobile No.: +966 59 3967457 From 16:00 to 22:00 SST

Skype ID: arifbazmi

Arifbazmi@yahoo.com

                                                                foxyform

Jado Aur Aaseb Ka Elaj جادو اور آسیب کا علاج 

How to Do Istikharan? استخارہ کیئسے کیں؟